Basta — Page 79

Urdu text
کا عمل ہے۔ یہ وہ دلائل ہیں جن کی رو سے بلاشبہ سبط جعفر روایتی و تکنیکی سوزخوانی کے آخری تاجدار ہیں۔
سبط جعفر ایک ایسی جامع الکمالات شخصیت ہیں کہ مجھ کو ان کی کون سی مصروفیات، خدمتِ خلق کا جذبہ، اپنی کتاب یا نظر اور مجھ پر اپنے ذاتی اثرات کو کس کس طرح بیان کیا جائے۔ انہوں نے بیک وقت مختلف شعبہ ہائے حیات میں تحریری اور تحقیقی کاموں میں معروف ہیں۔ وہ کراچی کی معروف شخصیت ہیں اور شاعری، نثر نگاری، CSS، وکالت و نوحہ خوانی، خطابت و صحافت کی منزلوں سے گزر کر سوزخوانی کے میدان میں آئے ہیں اور سوزخوانی کے دور میں ایک نئی صورت زندہ کرنے کی سعی پیہم کر رہے ہیں اور یہی فن جس میں مشکل ہی سے پڑھنے لکھنے لوگ آتے تھے، بلاشبہ سبط جعفر جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص نے اسے اعتبار کی بڑی حد تک بڑھایا ہے اور آڈیو / کیسٹ و تشویق پر اب اچھے خاندانوں کے باصلاحیت پڑھے لکھے نوجوان ان کے ہم نوا ہیں۔
مرا ہرگز آرزاں میں مشکل ترین صنف سوزخوانی ہے جس کے لئے ہر دم کی گھڑیاں چل رہی ہیں، ایک دو ہفتہ یا ماہ و سال کی محنت نہیں۔ دوسرے سوزخوان حضرات کی فن سے ناواقفیت جو سوزخوانی کا بنیادی علم نہ رکھنے کے باوجود سوزخوانی کرنے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور کچھ ضرور فنِ سوزخوانی کے قدیم اساتذہ کا بھی ہے جنہوں نے اس فن کو نئی نسل کے حوالے نہیں کیا اور نہ کوئی ایسا ادارہ یا اکیڈمی قائم کی جس میں تشنگانِ علم و فن سوزخوانی کو سیراب کیا جا سکے اور وہ فنِ سوزخوانی کے زیور سے آراستہ ہو سکیں۔
[بقیہ تاثرات]
حاصل کر نے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے اندر خود احتسابی کا حوصلہ پیدا کریں اور اسے بھی کبھی بھولیں کہ تنقید سے حقیقت کو نہیں بدلا جا سکتا۔ فن کے قلعے ہوا میں تعمیر نہیں ہو سکتے۔ فنی روایت سے ہٹ کر سوزخوانی اس فن سے بھونڈا مذاق ہے۔
سبط جعفر کی سوزخوانی کا ایک معیار ہے، انہوں نے اس معیار کو محض روایت تک محدود نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کے ساتھ کس حد تک انصاف کیا اور اس فن کے اجارہ کے لئے کیا کوششیں کی ہیں اور وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں کہاں تک کامیاب رہے ہیں، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ اس مختصر سے مضمون میں سوزخوانی کے فن کی تاریخ، نامور سوزخوان حضرات یا سبط جعفر کے فنِ سوزخوانی کا مکمل احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر کسی مناسب وقت فنِ سوزخوانی کے حوالے سے سبط جعفر زیدی کے فن پر گفتگو کی جائے گی۔
سبط جعفر کی ان تھک محنت اور آگہی کا کردار کئی دن و رات میں بھی قبول، کیسٹ، مشاعرہ اور آتی تقریب میں ان کا بھرپور تعارف اور ان کے حاضرین کے پرہجوم اور بے بنیاد پرچہ بازیوں کا زمانہ ممکن جواب اور نوید ہے۔ میں ان کی کامیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
(ہفت روزہ “ندائے اسلام”، کراچی)