Basta — Page 80

Original book page
Original scan of Basta page 80

Urdu text

مشاہیر کی آراء سے چند اقتباسات پروفیسر ڈاکٹر بلال نقوی “سوزخوانی ایک ایسا اچھوتا، منفرد اور شاندار موضوع تھا جس پر اب تک کسی کی نگاہ بھی نہیں گئی تھی اور نہ ہی پہلے مضمون مطبوعہ جنگ کے مطالعہ کے بعد یہ اندازہ ہوا تھا کہ اس میں تحقیق و تجزیہ کی اتنی گنجائش اور معنویت کی اتنی وسعت و گرانی پائی جانی ہے، بلاشبہ یہ بہت بڑا غیر معمولی کام تھا جو برادرم پروفیسر سبط جعفر نے انجام دیا۔” حضرت ساجد لکھنوی “ان مضامین پر سبط جعفر کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملنا چاہئے، جو ایسی پختہ بھی ہوتی مگر کن سوزخوانی کرے، اس کا بھی حق ہے۔ کرایے بھی شاندار مضمون بھی لکھے اور جو ایسا مضمون لکھے وہ اسی طرح اس کی ادائیگی کی قدرت و مہارت بھی رکھتا ہو، ورنہ سوزخوانی کی توقیت و اہمیت کا کوئی معنی ہے نہ روح کا حال ہوگا۔” کلیم آل عبا حضرت شاہد نقوی “صحیح مخارج اور صحتِ الفاظ کے ساتھ واضح، شفاف ادائیگی اور خوش الحانی کو تو ہم سمجھتے ہیں اور اسی معیار پر سوزخوانی کو پرکھتے ہیں۔ سوزخوانی کی فنی و تکنیکی باریکیوں کا اندازہ سبط جعفر کی سوزخوانی سن کر اور ان کے مضامین پڑھ کر ہوتا ہے۔ لیکن اس پر یقین کامل تب ہوا جب سبط حسن اعظم میر مرتضیٰ حسین آبادی اور بعض دوسرے احباب کی موجودگی میں عزاداری اور فنِ موسیقی کے مقاماتِ کمالی و عملی اور مشاق فنکار، استاد و موسیقار سید مہدی ظفر مرحوم نے علی الاعلان سبط جعفر کی غیر موجودگی میں اس کی مہارت کا اعتراف اور بے حد تعریف کرتے ہوئے مکمل سوز [جاری]” “خوان قرار دیا۔ ویسے تو سبھی سوزخواں اچھے ہیں۔” محترم افتخار عارف (صدر نشین، اکادمی ادبیات پاکستان) خداوندِ کریم کی صحبتیں آپ کو گرم و گداز اور سرفراز فرمائے۔ آپ نے صحیح معنوں میں ایک بہت بڑا کام کیا ہے۔ تہذیبِ عزاداری کی حفاظت کے حوالے سے ادارۂ ترویجِ سوزخوانی کا یہ کارنامہ ساری دنیا میں ایک سعادت کے طور پر دیکھا جائے گا، مجھے اس کا پورا یقین ہے۔ عصری ضرورتوں کے پیشِ نظر مجلسِ عزا میں سوزخوانی کی پائیداریت کیلئے مواد میں تنوع کی فراہمی کے ساتھ ساتھ کیسٹ کی شکل میں آوازوں کو محفوظ کر کے آپ نے صدیوں پر پھیلی ہوئی روایت کو آئندہ نسل کے لئے محفوظ کر دیا ہے۔ کوشش کیجئے کہ پاکستان کے دوسرے شہروں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی یہ سب پہنچ سکے۔ یہ ایک بڑی خدمت ہوگی۔ آپ نے یہ کام کر کے ہم پر ایک احسان کیا ہے۔ انشاء اللہ آپ ہمیں سلوک اور احسان کو یاد رکھنے والوں میں پائیں گے۔ میری خواہش ہے کہ وفاقی سطح پر آپ کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے ایک پروقار تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کیا جائے۔ محترمہ نیّرہ نور، شہریار زیدی اور انور الحق (نیشنل میوزک کانفرنس) کلاسیکی تکنیکی سوزخوانی ایک بہت عظیم مقدس اور مشکل فن ہے، جو پچاس اور سو سالوں تک محدود رہا اور بوجوہ اسے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا۔ جبکہ مستند اساتذہ ایک ایک کر کے رخصت ہوتے گئے، ہم پروفیسر سبط جعفر کا کام غنیمت ہے کہ جنہوں نے [جاری]