Basta — Page 81

Urdu text
ان پر وہ تمام کام کر کے اسے محفوظ کر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے ایک PERFORMING ART کے طور پر تسلیم کر کے اور پروفیسر سبط جعفر کے درمیان سوزخوانی کو حق دیا جائے۔ قرأت، نعت خوانی اور نوحہ خوانی کی طرح “سوزخوانی” کو بھی میڈیا اور سرکاری سطح پر مقدس اور مستند فن کے طور پر پہچانا جائے اور سوزخوانی اور سوزخوانوں کے ساتھ اب تک روا رکھے جانے والی ناانصافی، زیادتی اور غفلت کا ازالہ کیا جائے۔
ہماری خواہش ہے کہ نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی صاحبانِ فن پروگرام مرتب کر کے بہترین سوزخوانی کو فروغ دیا جائے بلکہ اپنے عہد کے فن سے ناواقف شائقین کی بھی اب سے اس ناواقفیت / محرومی کا ازالہ کیا جائے۔
فرحہ خواں حسن صادق
میں سبط جعفر صاحب کو بہت توجہ، محبت اور عقیدت سے سنتا ہوں اور ان کی مہارت کا مداح و معترف ہوں۔
یادگار و جانشین استاد پیارے خان اور استاد امراؤ
[استاد محمد امیر احمد خان — اسپیڈو پروگرام / منتخب ریڈیو پاکستان]
آپ کی آواز میں اس قدر مہارت اور پختگی ہے کہ اگلے والے ہمیں بہت اچھے لگتے ہیں اور نہ ہی کوئی کمی ہے۔ نغمگی کی باقاعدہ مگر اندازِ شعر و بیان کی اپنی کشش و روایت ہے۔
دخترِ خواں شہید ندیم رضا سرور
میں نے سبط جعفر صاحب سے بہت کچھ سیکھا اور سیکھ رہی ہوں۔ صرف وہ سوزخواں اور درد و آہگوں ادا کرنے والے ہیں۔ بلاشبہ ان کی آواز پُرسوز، پُردرد اور خوبصورت ہے۔
استاد اسد امانت علی خان
پروفیسر صاحب نے ان تمام فنی مہارت اور تکنیکی معلومات اور طریقۂ استعمال کا خاص سلیقہ آگاہی رکھی ہے۔ وہ مجالس میں بڑی احتیاط اور خوبصورتی سے جس فنکاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، ہم گائیکی میں بھی ان خوبیوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔
مقبول احمد صابری
سوز و سلام پر ہم کبھی پڑھتے ہیں اور سماع و گانے والے بھی اور ہمارے اسلامی نغمگی، پُر درد اور ادائیگی کی خوبصورتی بہت متاثر کن ہوتی ہے۔ ان کی محفل میں شرکت کے علاوہ سبط جعفر کی ادائیگی کے شاہکار ہے۔ ہم کبھی وہی کلام سوز کے بغیر بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے سوزخوان بھی، لیکن جس قسم کی سوزخوانی پروفیسر صاحب نے اپنی کتاب اور مضامین میں پیش کی ہے اور ہمزہ کا مکمل مظاہرہ بھی کرتے ہیں وہ یقیناً ہماری عام سوزخوانی کی ادائیگی سے مختلف اور تکنیکی ہے۔ عام سوزخوانوں کی ادائیگی کو ہم کم از کم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ حضرت کی چیز بھی کی جا سکتی ہے، اور فرق تکنیکی ہے۔