Basta — Page 82

Urdu text
میری نظر میں عام سوزخوانوں میں روایتی سوزخوانی نہیں کی، مگر سوزخوانی مقصد اور ادائیگی کے اعتبار سے مذہب، فرض و کرم ہے۔ بڑے بھائی غلام مہدی [قافیہ / خاندانی رشتہ جزوی طور پر غیر واضح] سمیت ہمارا پورا گھرانہ اسی فن کا مداح رہا ہے۔ یہ بات ہے کہ قوالی اور شہنشاہِ ولایت مولا علی کرم اللہ وجہہ کی محفلوں کے ساتھ سوزخوانی کا رنگ بھی ہمارے لئے ایک فخر ہے۔ بزرگوں سے منسوب یہ قدیم و روایتی فن ایک نہایت خوشگوار کام ہے جو دیر سے محفوظ رہا ہے۔
کسی نے مجھ سے مختصر گفتگو کی کہ اس قسم کے آواز اور دیگر ادائیگیوں میں فرق ہے۔ عرض ہے یہ صاف سماعت ہے، اور بقول شاعر:
ساز یہ اہلِ طریقت سوز میں اہلِ عزا
دونوں مل کر دیتے ہیں تذکرۂ مولا کا
الحاج خورشید احمد
میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے سرکاری و سماجی سطح پر بہت سے ہمدرد اور مخلص احباب ہیں۔ جب سبط جعفر اور اپنے تاثرات دیکھے تو مجھے خیال آیا کہ انہیں ہی اپنے سوزخوانی کے کام کو بہترین سنبھالنا چاہئے۔ بہرحال میں بطور نعت خواں اور سوزخوان آپ کیلئے دعاگو ہوں۔
ڈاکٹر ریحان اعظمی
صوتی علوم و فنون اسلامی اور اب یہ ایک ایسے فعال اور اہلِ انسان کا تخلیقی کارنامہ ہے کہ جس کی ساری زندگی ذکر و فکرِ آلِ محمدؐ میں گزری ہے۔ خصوصاً عزاداری اور سوزخوانی کیلئے جس کی انتھک خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اس دوست کے جو تذکرہ ہے وہ میرے لئے باعثِ فخر ہے۔ نہایت دیانتدار، خوش اخلاق، بہترین کردار، اچھا دوست، اچھا شاعر اور اچھا فنکار ہے۔ ان موضوعات کا اولین تحقیقی و معتبر پاکستان اور دنیا بھر کے مختلف شہروں میں سوزخوانی کی مجالس اور زیادہ طویل شہرت و عرفان میں سبط جعفر ہی ہیں۔ جدید نشر و اشاعت اور تکنیکی ذرائع کے بغیر سوزخوانی کے تقریباً ۵۰ آڈیو اور ویڈیو کیسٹ، جن میں تقریباً ۱۰۰ بندشوں کے کلام اور سوز و سلام وغیرہ محفوظ ہیں۔ ۱۰۰ سے زائد رضاکار جن میں ۲۵ ایسے جو خود بھی مکمل سوزخواں کرتے ہیں، دنیا و بڑی دونوں اعتبار سے سب سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور ذمہ دار طبقہ ہیں۔ یہ کارنامہ بہت قابلِ تحسین ہے۔
ان کے بارے میں مزید جاننے کے خواہاں ان کی تصانیف، ان کے کسی اہلِ اسلام آباد جانے، کسی کے مرثیہ خواں اور شاعر و ذاکر سرفراز صاحب کے “القائم” کا مطالعہ کریں۔