Basta — Page 83

Urdu text
محترم سید امیر امام
(جنرل منیجر — پی ٹی وی)
میں سمجھتا تھا کہ میرے کئی قدیم روایتی تکنیکی سوزخوانی کی آخری نمائندہ ہیں جن کے ساتھ انتہائی قدیم فن اور رشید عہدی کا غیر مرئی مؤثر کارنامہ ہے۔ ان کا تسلسل نئی پائین نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔ ہم لوگوں نے سوز و عزاداری سے متعلق مختلف نشستوں اور مجالس، منازل و اداروں میں ان سے سیکھا ہے۔ میں خود بھی اس سلسلے میں ایک شائق / خادم رہا ہوں۔ اس فن کے محفوظ ہونے اور نئی نسل تک منتقل ہونے میں سید سبط جعفر صاحب اور ان کے ساتھیوں کا کردار بڑی تقویت، طمانیت اور دلی مسرت کا باعث ہے۔ ہم اُن کے مشکور ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ انشاء اللہ یہ فن بہتر انداز میں قائم رہے گا۔ سبط جعفر کا یہ کام سوزخوانی کے حوالے سے [کچھ الفاظ غیر واضح]۔
اظہارِ تشکر
سرفراز احمد
اس حقیقت سے کسی کو انکار ہو سکتا ہے کہ پرانی کارکردگی جوان سے زیادہ زندہ و نیک ہوتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر سبط جعفر زیدی کے اپنے تحقیقی مقالات کے بارے میں میرے اندر ادب میں کیوں کہ یہ بڑے باصلاحیت انسان اور اپنے موضوعات کے ماہر ہیں۔ آج ان کے کام سے بڑی امید ہے۔ میں اپنے ذاتی فنی مشاہدے اور تجربہ کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی تحقیق کے ساتھ عملی نمونہ بھی موجود ہے۔ ہمیں ان کی کوششوں کی قدر کرنی چاہئے اور انہیں کام جاری رکھنے میں تعاون دینا چاہئے۔
میں پروفیسر سبط جعفر سے تذکرہ کیا کہ وہ ایک تعلیمی ذمہ داری ہے اور اس فن پر آج تک میری نظر سے کوئی باقاعدہ کتاب نہیں گزری۔ اب آپ ایک بڑے سوزخواں بھی ہیں، کسی صاحبانِ کمال اور نامور سوزخوانوں کے ساتھ کام بھی رکھتے ہیں، اس لئے آپ یہ کارِ عظیم انجام دیں۔ خوش نصیب کہ انہوں نے ہماری گزارش قبول کی۔ خدا کا شکر ہے کہ سوزخوانی پر پہلا جامع و مستند کام آج ہمارے سامنے ہے۔
[پچھلے صفحے سے جاری / اشاعتی نوٹ]
تصانیف میں “صوتی علوم و فنون اسلامی” اور ڈاکٹر سرفراز [نام جزوی طور پر غیر واضح] صاحب کے “القائم” کا مطالعہ فرمائیں۔ اس لئے کہ میرے لئے ان کے استاد، شاگرد اور دوست کا حوالہ نہیں بلکہ علمی و فنی صلاحیت کا اعتراف ہے۔