Fatima Ke Chain Ne Salam Fatima Ke Chain NeUrduSalam
فاطمہ کے چین نے علی کے نورِ عین نے
باخدا حسین نے دین کو بچا دیا
هر طرف سے بندھ ہوچکے تھے حق کے راستے
خون مانگتا تھا دین زندگی کے واسطے
دین کے اُصول نے نائبِ رسول نے
زندگی کا قرض اپنے خون سے چُکا دیا
.
حرف آ رہا تھا دینِ مُصطفی کے نام پر
ممبرِ رسول بِک رہا تھا تختِ شام پر
دین کی اساس نے دستِ حق شناس نے
اُمتِ محمدی کو خواب سے جگا دیا
.
پھر سے شرک کی طرف پلٹ نہ جائے آدمی
راهِ مُستقیم سے بھٹک نہ جائے آدمی
شاہِ تشنہ کام نے وقت کے امام نے
حق کی راہ پر لہو سے اک دیا جلا دیا
.
میرِ شام بن گیا تھا سانپ آستین کا
خُسروی کے سر پہ رکھ رہا تھا تاج دین کا
بادشاہِ دین نے بوریا نشین نے
آرزوئے خُسروی کو خاک میں ملا دیا
.
حلقِ بے زبان سے ظُلم کی کمان توڑ دی
شہ رگِ گُلو سے خنجروں کی دھار موڑ دی
نازشِ حیات نے فخرِ کائنات نے
سر کٹا کے آدمی کا سر بلند کر دیا
.
بڑھتے بڑھتے بات جب اُصولِ دیں پہ آگئی
اور یزیدیت کی شکل میں عروج پا گئی
بڑھ کے پھر دلیر نے شیرِ حق کے شیر نے
دو پہر میں تخت و تاج و قصرِ شام ڈھا دیا
.
لاکھ جان و دل نثار سیدِ اَنام پر
رو دیا فلک بھی بے کسئ تشنہ کام پر
اپنے مہجبیں کو دلبرِ حَسِین کو
کھینچ کر گلے سے تیر جب گلے لگا لیا
.
دل کہاں سے لاؤں جو کروں یہ واقعہ بیان
تین دن کی پیاس میں وہ حوصلہ تھا الامان
ظلم کے اسیر نے رن میں اک صغیر نے
مسکرا کے فوج شام کو رلا رلا دیا
.